Monday, May 31, 2010
قسمت کی پرا سرار تکون
تحریرو تحقیق: محمد الطاف گوہر
آج اگرایک طرف انسان اپنی ذاتی زندگی ،اپنی تہذیب اور دوسری تہازیب کے ادغام کی تکون میں لڑکھ رہا ہے تو دوسری طرف یہ تکون Triangle یعنی مثلث کا عمل دخل انسانی زندگی میں انتہائی پراسراریت رکھتا ہے ،جبکہ نہ صرف اہرام مصر اسکی ایک تمثیل ہیں بلکہ برمودا ٹرائی اینگل بھی اسکی ایک زندہ مثال ہے۔ مگر معاملہ صرف یہیں تلک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے شب و روز میں بھی یہ تکون ایک اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ زندگی کے مثلث میں بچپن سے انسانی اٹھان اپنے عروج پر اگر جوانی کا مزہ چکھتی ہے تو زوال میں بڑھاپا بھی انتظار کررہا ہوتا ہے۔ البتہ انسان نہ صرف اپنے اکتسابی عمل میں ترقی و کامرانی کی منازل طے کر رہاہے بلکہ اسکی باطنی نشونما بھی اپنے نقطئہ عروج کے لیل ونہار پر ہے جہاں کہ قسمت کی پر اسرار تکون اپنا ایک مستحکم وجود رکھتی ہے اور جو آشکار ہونے کو ہے، آئیے آج اس پراسرار تکون کے ایک ظاہری رخ سے پردہ اٹھاتے ہیں جبکہ باطنی رخ کو کسی دوسرے مضمون میں بیان کروں گا ۔
آئیے ایک نئی دنیا کا ایک باب دیکھیں ، جہاںزندگی اپنی تمام جلوتیں نچھاور کرتی نظر آرہی ہو، آگے بڑہیں اوراپنے ذھن کی خودساختہ حدوں کو توڑیں ،اپنی حقیقی نظر سے دیکھیں اور اس حقیقت شناس زاویہ سے روشناس ہوں جہاں نظر کبھی خطا نہیں کھاتی ، جی ہاں !اگر کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی طرح کی کامیابیاں اپنی زندگی میں لانا چاہتے ہیں مگر حاصل نہیں کر پاتے ، جو خوشیاں دوسروں کی جھولی میں کھیلتی نظر آتی ہیں انکو حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر امید بر نہیں آتی اور مایوسیوں کے بنے جال میں جکڑے رہتے ہیں ، اگر محبت دوسروں کے گلے کا ہار بنتی ہے تو ہم نفرتوں کے کانٹے چنتے رہ جاتے ہیں ، اگر ہمارے حالاتِ زندگی پھیکے ہیں تو دوسروں کے خواب بھی رنگ بھرے ، اگر دوسرے پتھریلی زمین پر پاوں ماریں تو پانی نکل آئے اور ہم زرخیز میدان میں قوتیں بھی صرف کر دیں تو پانی کے آثار بھی نظر نہ آئیں۔تو کیا وقت کا پہیہ اسی طرح صدیوں تک ہماری شکستہ حا لی کو لادے نا معلوم منزل کیطرف چلتا رہے گا ؟ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت شناس زاویہ ہمیں دعوت عمل دیتا ہے کہ ایک قدم آگے بڑھاہیں اور لذتِ آشنائی کی مہک سے ہمکنار ہوں اور زندگی کے اس پر اسرار گوشے کی راہیں علم و عرفان کے چراغوں سے روشن کردیں۔
ہر دور میں افراد نے زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھاجبکہ ہرشے کو دےکھنے کے360 زاوئےے ہوتے ہےں البتہ ضروری نہےں کہ ہر زاویہ ٹھےک ہو مگر اےک زاویہ ضرور حقیقت بتلاتا ہے اور وہ ہے 180 درجے کا زاویہ ، خط مستقیم کا زاویہ ، سیدھے راستہ کا زاویہ ، یا پھر آمنے سامنے کا زاویہ ، حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا زاویہ ، میدان عمل میں آنے کا زاویہ ، جمود سے سنہرے مستقبل کی طرف گامزن ہونے کا زاویہ ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ زاویہ بنتاکیسے ہے۔ کیونکہ زاویہ، نظریہ، ترکیب بہر حال ایک تو ضرور اےسی ہوتی ہے جو حقیقت شناسا ہوتی ہے اورکا میابی سے ہمکنار کرتی ہے۔
اگر ہائیڈروجن گیس کے دو حصے اور آکسیجن کا ایک حصہ ملایا جائے تو نتیجتاً پانی بنے گا مگر ان دونوں گیسوں کو اور کسی بھی ترکیب سے ملایا جائے توپانی نہیں بنے گا چاہیں کروڑوں طریقے آزمائے جائیں۔ یعنی ایک ہی زاویہ یا ترکیب کسی حقیقت کی غمازی کرتی ہے وگرنہ دوسری ساری تراکیب و طریقے (زاوئیے، نقطہ نظر) سوائے گمراہی اور وقت کے ضیاع کے اور کچھ نہیں۔
تخلیق کاخاصہ ہے کہ وہ ان طاقتوں کو (جوایک دوسرے کےلئے قربت کا مزاج رکھتی ہوں)ایک خاص نسبت (ترکیب، زاویہ)پہ ملا کر ایک نئی چیز معرض وجود میں لاتی ہے۔ جیسے قدرت کے رازوں میں سے ایک راز واضح کرتا چلوں کہ قدرت کس طرح عدم (غائب) سے کسی چیز کو ظاہر وجود میں لاتی ہے جہاں کہ معاملات کی تکون بھی واضع نظر آئے گی۔ یعنی ہائیڈروجن اور آکسیجن نظر نہ آنے والی گیسیں ہیں مگر جب دونوں ایک خاص ترکےب (H2O) کی نسبت کے ساتھ ملایاجاتا ہے تو ایک نئی چیز (پانی ) وجود میں آتا ہے جوکہ ایک جدا گانہ خاصیت رکھتا ہے اور دیکھا اور چکھا بھی جا سکتا ہے۔
انسانی قسمت کا معاملہ بھی پرسراریت رکھتا ہے۔جبکہ اس کی توجیحات بھی سوجھ بوجھ کی کاش ہے جیسے تپتی دھوپ میں اگر چھتری تان لی جائے توتپش سے بھی بچا بھی جا سکتااور ہے کوئی دعواہ بھی نہیں ، البتہ اگر ایک طرف قدرت کا قانون جاذبیت (میری کتاب ” لذتِ آشنائی ” میں اس موضوع پر مکمل بحث کا باب شامل ہے ) یعنی کشش کا معاملہ میں اپنی مثال آپ ہے تو دوسری طر ف انسان پر قسمت کی پر اسرار تکون بھی حاوی ہے۔
کسی بھی تکون (Triangle) کے تین نکات کو اگرتین خطوط سے آپس میں ملایا جائے تو اس کے اندر بننے والے تمام زاوئیے مجموعی طور پر180 ڈگری کا زاویہ بناتے ہیں جو کہ ایک خط مستقیم کا اظہار ہے،یہ ایک ایساہی عمل جیسے ہایڈروجن گیس ، اور آکسیجن گیس مل کر ایک ایسا تیسرا زاویہ بناتی ہیں یعنی H2O جونتیجہ میں پا نی کا وجود ہے اور انسانیت پر اللہ کا احسان عظیم بھی ۔ یہ ایک ایسا ہی عمل ہے جیسے ایک بار ایک جنگل کے کنارے ایک نابینا آواز لگا رہا تھا کہ کوئی مجھے جنگل پار کرادے ، تو اس کے پاس ہی ایک اپاہج بھی ایسی ہی آواز لگا رہا تھا کہ کوئی مجھے جنگل پارکرا دے ، اچانک وہاں سے کسی ” بینا” شخص کا گزر ہوا تو اس نے دونوں (زاویے دیکھے ) افراد کو دیکھا تو ان کو ایک (نئے نقطے پر ملا دیا ) نیا راستہ دکھا دیا، وہ شخص بولا بھئی اگر اپاہج شخص نابینے کے کندھوں پر سوار ہوجائے تو دونوں آسانی سے جنگل پار کرسکتے ہیں (خط مستقیم یعنی سیدھا راستہ یا منزل پا سکتے ہیں)۔
معاملہ یوں ہے کہ افراد جب کسی جمود کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں قسمت کی تکون کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہے جو ایک ایساہی عمل ہے جیسے برقی رو کو بہنے کیلئے صرف مثبت یا صرف منفی چارج کی ضرورت نہیں بلکہ جب تک دونوں کے درمیاں کا رابط کسی تیسرے ربط (بلب) سے نہ ملے توروشنی (خط مستقیم، منزل حاصل نہیں ہوسکتی)حاصل نہیں ہوسکتی ۔ یعنی ہر دوکے ملنے سے جو تیسری شے حاصل ہوتی ہے وہی منزل کا نشان دیتی ہے۔ بے روزگاری کا صحیح کوشش سے ملاپ روزگار تک پہنچا دیتا ہے ، بیماری کا صحیح علاج سے ملاپ صحت سے ہمکنار کرتا ہے ، مگر یہ سارا عمل کسی حرکت کی نشاندہی ہے ، اور کسی جمود کا توڑ ہے جہاں صرف سوچوں کی چکی میں پسنے کی بجائے راہ عمل اختیار کرنا کسی منزل پر پہنچنے کا باعث بن سکتا ہے۔علم ایک امکانی قوت ہے جب تک اسے راہ عمل پہ نہ ڈالا جائے، جیسے بیٹری چارج کرکے رکھ دی جائے اوراستعمال نہ کیا جائے،جبکہ طاقت دراصل عمل میں پنہاں ہے۔ افراد اگر اپنی زندگی میں پر اسرار تکون کے علم سے آشنائی پا چکے تو انکے لئے عمل کے پارس پتھر سے اپنی قسمت کو سونے میں تبدیل کرنا مشکل نہیں، مگر ان سب معاملات میں رب العزت کا فضل شامل حال ہونا بھی ضروری ہے ۔
اٹھیں اور اک نئے عظم ، ولولے کے ساتھ ناکامی ، بیماری ، تکلیف ،الم اور رنج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکو پچھاڑ دیں۔
بقول میاں محمد بخشؒ صاحب
مالی دا کم پانی دینا تے بھربھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھول لانا لاوے یا نالاوے
کیا تم مجھے لوّ لیٹر لکھو گے؟
کیا تم مجھے لوّ لیٹر لکھو گے؟
تحریر: محمد الطاف گوہر
چودھویں کا چاند جب پوری آب و تاب سے دمک رہا ہوتا ہے تو چاندنی کے حسن میں کھو جانی والی سمندر کی لہریں اپنا اظہار محبت کرتی ہیں، جبکہ پانی اپنی خاموشی اور سکوت کو توڑ کر بلندیوں پر پیار کی پینگیں ڈالتا ہے ، اس کشمکش کے نتیجہ میں سمندر ایک طوفان سے دوچار ہوتا ہے جسے ہم مدوجزر کے نام سے جانتے ہیں۔ بظاہر تو یہ طوفان جان لیوا لگتا ہے مگر اس کا محرک صرف ایک پیار ہوتا ہے جو سمندر کا پانی چاند کے لازوال حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنا اظہار کرتا ہے ، اسی کے باعث سمندر اپنا سب کچھ اس پر نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتا ہے مگر یہ تو ممکن نہیں کہ جوار بھاٹا کی تند تیز مگر آسمانوں سے باتیں کرتی لہریں چاند کی بلندی کو چھو لیں البتہ اپنی اس تندی میں اور مدوجزر کی کیفیت میں سمندر کی گہرائی میں پڑے بیش و قیمت موتی، گوہر اور لال اپنے کناروں نظر کر جاتی ہیں، جو کہ انسانیت کیلئے ایک عظیم تحفہ ثابت ہوتے ہیں۔ آج جب چاند پھر جوبن پر ہے مگر اچانک ایک پتھر میر ی سوچوں کی ونڈ سکرین سے ٹکرایا اور ذہن کے ایک مقفل کونے کے پٹ کھولتا ہوا ماضی کے آنگن پہ جا رکا۔ اس چکناچور کردینے والی کیفیت کا طوفان ابھی تھما نہیں تھا کہ وہ لمحات جو اس کونے میں مدفن تھے اچانک اپنی پوری آب وتاب سے درخشاں ہوگئے۔ کیا آپ کے پاس نوکیا کا چارجر ہے ؟ میں نے سر اٹھا کر دیکھا توایک لڑکی پنے ہاتھ میں نوکیا کا موبائل پکڑے کھڑی سوالیہ انداز میں مجھے دیکھ رہی تھے۔ جبکہ اسکے برابر میں دوسری لڑکی ہماری طرف متوجہ کسی مثبت جواب کے انتظار میں تھی مگر میں تو نوکیا استعمال نہیں کرتا ، میرے پاس تو ہمیشہ سے سام سنگ کا موبائل رہا ہے اور اسکا چارجر بھی اس وقت میرے پاس نہیں ، میں نے انکار کرتے ہوئے اپنی توجہ پھر اخبار پڑھنے کی طرف مبذول کردی۔ کلینک کے لان میں کافی لوگ بیٹھے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جبکہ میرے ساتھ آنے والا مریض بھی اونگھ رہا تھا اور میں اپنا وقت اخبار پڑہنے پر صرف کر رہا تھا ۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ پھر وہی دونوں لڑکیاں میرے پاس آئیں ۔ ان میں سے ایک نے موبائل فون اور اس کا چارجر بھی پکڑا ہواتھا اور بولی ، آپ پلیز اس سیٹ کو کسی پاور پلگ سے لگا دیں تاکہ ہمارا فون قابل استعمال ہو سکے ۔ اب مجھے انکار کرنے کی کوئی وجہ نظر نہ آئی اور اس کو قریب ہی سوئچ بورڈ کے پلگ پر چارجنگ کیلئے لگا دیا ۔ قریب ہی ایک نشست خالی تھی تو ان میں سے ایک محترمہ اس پر براجمان ہوگیں جبکہ دوسری اس نشست کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گیں۔ کیاآپ سٹوڈینٹ ہیں ؟ سیٹ پر بیٹھی ہوئی محترمہ نے سوال کیا ۔ مجھے کچھ اندازہ ہوا کہ یہ خوامخواہ بات چیت کرنے کیلئے بہانے بنا رہی ہیں، بحرحال اب وقت کا مزاج تو یہی کہہ رہا تھا کہ چلو بوریت سے تو خلاصی ہوئی ۔ جی نہیں ! میں سٹوڈنٹ نہیں ہو بلکہ بزنس کرتا ہوں ، میں نے جواب دیا ۔ ان میں سے جو نشست کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی تھی بتایا کہ اس کا نام سیمہ ہے اور جو نشت پر براجمان ہے اسے شازیہ کہتے ہیں۔ سیمہ جو بظاہر چھبیس ستائیس برس کی لگ رہی تھی وہ رشتے میں شازیہ کی خالہ لگتی ہے جبکہ شازیہ تقریباً بائیس تئیس برس کی ہونگی اور یہ لوگ ڈیفنس سے آئے ہوئے تھے۔۔یہاں یہ لوگ بھی اپنی باری کے انتظار میںبیٹھے تھے ۔ میں سمجھا کہ شازیہ اپنی خالہ کے ساتھ آئی ہونگی مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ شازیہ بیمار ہے اس کو دکھانے کیلئے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ معصوم و دلکش چہرہ والی لڑکی کس بیماری میں مبتلا ہے؟ بظاہر دیکھنے میں اس خوبصورت سی لڑکی میں کوئی بیماری نظر نہیں آرہی تھی سوائے اس کے کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں جیسے کوئی کافی رو کر آیا ہو۔شازیہ کی خالہ نے بتایا ہم لوگ دونوں کافی دیرسے سامنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے مگر جب شازیہ کی نظر آپ پر پڑی تو یہ فوراً یہاں چلی آئی اور مجھے بھی اس کے پیچھے آنا پڑا ، یہ بہت دنوں سے خاموش ہے زیادہ بات بھی نہیں کرتی یا پھر بہت لڑتی ہے ۔ مگر یہاں تو بہت تحمل سے مسکراتے ہوئے دھیمی آواز میں گفتگو کر رہی تھی۔ البتہ یہ عین ممکن تھا کہ یہ مسکراہٹ عارضی ہو؟ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ، اسے کیا ہوا ہے ، تو اس کی خالہ نے بتایا اسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ، خاموش اور گم سم رہتی ہے یا پھرکسی معمو لی بات پر بہت زیادہ جھگڑا کرتی ہے ۔ اس روز شازیہ سے زیادہ باتیں تو نہ ہوسکیں مگر مجھے اس سے ہمدردی ہوگئی اور تجسس بھی لہذا دوبارہ ملنے کا وعدہ کرکے میں چلا آیا۔ چند روز کے بعد دوبارہ اسی کلینک پر جانے کا اتفاق ہوا، ابھی بیٹھے کچھ ہی وقت گزرا تو دیکھا شازیہ کی خالہ میری طرف آئیں اور بتایا کہ شازیہ کی بیماری کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ، اور وہ اس پرائیویٹ کلینک میں ایڈمٹ ہے ۔ آپ کو بہت یاد کرتی ہے ، آپ دیکھیں وہ سیڑھیوں سے جھانک کر دیکھ رہی ہے ۔ کیا آپ ہمارے کمرے میں آسکتے ہیں؟ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ شازیہ بھی اپنے کمرے سے ویٹنگ روم میں آگئی، آج واقعی اسکی طبعیت صحیح نہیں لگ رہی تھی۔ آئیں ہم سامنے لان میں چلیں ؟ وہاں چل کر بیٹھتے ہیں ۔۔ آتے ہی اس نے پوچھا ۔ مجھ سے کوئی جواب بن نہ پایا اور اس کے ساتھ باہر لان میں ہری ہری گھاس پر پڑی ایک کرسی براجمان ہو گیا جبکہ شازیہ دوسری کرسی پر بیٹھ گئی ۔ شازیہ کی خالہ واپس اپنے کمرے میں یہ کہتے چلی گئی کہ میں چائے لیکر آتی ہوں ۔ آج یہ خوبصورت سا پھول جیسا چہر ہ کملایا ہوا لگ رہا تھا۔ شازیہ کے ریشمی بھکرئے ہوئے بال جیسے یہ کہہ رہے ہوں کہ آج طبعیت اداس ہے! میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ، آپکو کیا بیماری ہے ؟ تو جواب میں بہت گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہنے لگی ’ کیا تمہیں کسی نے کبھی لو لیٹر لکھا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں مجھے متعدد بار اس طرح کے لیٹر موصول ہوچکے ہیں ، تو وہ جواب میں بہت حیرانگی کا اظہار کرنے لگی ، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آگئی اور بولی ، کیا تم مجھے لو لیٹر لکھو گے؟ میں حیران و پریشان ہوگیا اور اس شش و پنج میں مبتلا ہوگیا اسے کہ کیا جواب دوں؟ شازیہ نے دوبارہ اپنا سوال دھرایا تو میںنے اس کی عجیب بات اور حالت کو دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا ، ہاں میں تمھیں لو لیٹر لکھوں گا حالانکہ میں نے کبھی بھی کسی کو لو لیٹر نہیں لکھا!! کیا تم واقعی مجھے لو لیٹر لکھو گے ؟ اس نے بڑے جوش اور خوشی کے اندازمیں پوچھا تو میں نے کہا ہاں ضرور ۔۔۔ تو اس بات پر وہ خوشی سے چلانے والی کیفیت میں بات کرنے لگی ۔۔۔ میں نے پوچھا مگر تم اتنا اصرار کیوں کر رہی ہو تو وہ اچانک سنجیدہ ہوگئی۔ پھر کچھ لمحات کیلئے خاموشی چھا گئی اور اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی مجھے آج تک کسی نے پیار نہیں کیا ، مجھے کسی نے لو لیٹر نہیں لکھا ۔۔۔ مگر شازیہ تم میں کوئی کمی والی بات نہیں ، خوبصورت ہو ، جوان ہو ۔۔۔ پھر بھی ایسا کیوں سوچتی ہو؟ شازیہ بولی میں نے جس سے پیار کیا اس نے مجھے پوچھا تک نہیں ، میرا چچا کا بیٹا میری چاہت ہے مگر جب وہ ہمارے گھر آئے تو انہوں نے میری چھوٹی بہن کا رشتہ مانگا۔ حالانکہ اس کزن سے میرے رشتے کی بات ہو چکی تھی ۔ میں تو اسے اپنے خوابوں کا شہزادہ بنا چکی تھی ۔ پھر کیا ہو ا ، کیا تمہارے ماں باپ مان گئے ؟ میں نے پوچھا تو وہ چلا کر بولی ہاں ۔۔۔۔۔ انہوں نے میری خوابوں کے شیش محل کو چکنا چور کردیا ، میری چھوٹی بہن کا رشتہ اس سے طے کر دیا ۔۔۔۔۔ میرے جیسی مشرقی لڑکیاں اپنے من میں جسے ایک بار بسا کر خوابوں کے جو محلات تعمیر کرتی ہیں کیا وہ ان میں کسی دوسرے کو گھسنے کی اجازت دے سکتی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ شازیہ قریباً چلا رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بے چاری کس کرب سے گزر رہی ہوگی؟ چند لمحات کے اس مدوجزر نے نہ جانے کتنے نادر جوہرات کناروں کی نظر کر دئے تھے۔۔۔ اچانک بولی ، کیا واقعی لو گ پیار کرتے ہیں؟ کیا ہر ایک کو اس کا پیار مل جاتا ہے ؟ ۔۔۔۔والدین کے غلط فیصلوں کی بھینٹ چڑہی ہوئی یہ لڑکی نہ جانے کتنے سوالات کر رہی تھی اور میں خلا میں گھورتے ہوئے صرف اثبات میں سر ہلا رہا تھا۔ ۔۔۔ زبان جیسے گنگ سی ہوگئی ۔۔۔۔۔ اور ابھی خاموشی کا ماحول برقرار تھا کہ شازیہ کی خالہ آگیں۔ فضا جیسے کسی ماتم میں سوگوار محسوس ہورہی تھی۔۔۔ سب لوگ چائے پینے لگے اور اس بے قرار کردینے والی خاموش نشست کا اختتام ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ایک روزشازیہ کی خالہ کا فون آیا ، ۔۔۔ آواز بھرائی ہوئی تھی ، شازیہ کی موت کی اطلاع تھی۔ منزل کی راہ میں چوکڑیاں بھرتی ہرنی کسی صیاد کے تیر کا شکار ہوگئی ۔۔۔ ایک معصوم کلی کھلنے سے پہلے مرجھاگئی ۔۔۔۔ چاندنی کے حسن میں کھوئی ہوئی سمندر کی لہریں کناروں سے سر ٹکراکر پاش پاش ہومگر یہ پتھر ازلوں سے بے ثباتی اور بے حسی کا مظہر بنے رہے ۔۔۔۔
اے چاند ڈوب جا کہ طبعیت اداس ہے